Dr Aoun Sajid Naqvi Posts
"تحریری میراث: ڈاکٹر عون نقوی صاحب کی فکری جہتیں"
ڈاکٹر سید عون ساجد نقوی ملت جعفریہ پاکستان کے جری، متحرک اور بصیرت افروز رہنما ہیں۔ آپ کی تحریریں صرف مذہبی رہنمائی تک محدود نہیں بلکہ سیاسی، سماجی، اور فکری سطح پر بھی ایک راہنمائی کا منبع ہیں۔ آپ کے مضامین، خطابات اور فکری نکات ملت کو وحدت، استقامت، شعور اور بیداری کا پیغام دیتے ہیں۔ اس صفحے پر ہم اُن تحریروں کو پیش کر رہے ہیں جو قوم کی تعمیر، نوجوان نسل کی فکری تربیت، اور اسلامی معاشرت کے قیام میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔
منظم ملکوں کی حکومتیں مہذب ہوں, یہ ضروری نہیں
انسان اخلاق و تہذیب کو منظم کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔
انسان وحشت و بربریت کو منظم کرنا چاہے تو وہ بھی کرسکتا ہے۔
کیونکہ " فالھمھا فجورہا و تقواھا " ہم نے برائی اور پرہیزگاری ( کی پہچان و رجحانات) دونوں ( انسان میں) ودیعت کیے ہیں۔ القرآن۔
اصل بات وہ تہذیب و اخلاق ہے جس کی بنیادی حس، انسان کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے۔ جسے انسان اپنے منہ زور حیوانی پہلو کے زیراثر ناکارہ بنا دیتا ہے۔
منظم و ترقی یافتہ ممالک کے عوام کو سمجھنا چاہیئے کہ ان ممالک کی بعض غیر مہذب حکومتیں، غیر انسانی عزائم کو اپنا قومی مفاد کہہ کر اس قوم کو انسانیت سے خارج کر رہی ہیں۔ اور اپنی درندہ صفت جنگی پالیسیوں کے ذریعے "منظم جنگلی پن" (Organized Savagery) پھیلا رہی ہیں۔ خود کریں تو ٹھیک دوسرا وہی کرے تو غلط۔
ہمیں بعض ممالک کے ظاہری نظم و ضبط کے پیچھے چھپے "منظم جنگلی پن " کو بروقت پہچاننا ہے۔
سروائول آف فٹسٹ کا مطلب فقط جسمانی بقا نہیں۔ انسانی تہذیب میں جیتا وہی ہے جو دور اندیش ہو۔
سید عون ساجد
6 ہاڑ 1404 ھ ش | 20 جون 2025 ع ش
بزدلی، بہادری، دوستی، دشمنی
بزدلی، بہادری، دوستی، دشمنی ایک فرد کی سطح پر اور معنی رکھتی ہے اور ایک معاشرے یا قوم کی سطح پر ان کلمات کا مفہوم اور ہے۔ اسی طرح قدیم دور میں اس کے معانی اور تھے جدید دور میں اور ہیں۔ جیسے آگے بڑھ کر کسی حق دار کی حمایت میں کھڑے ہوجانا بہت اچھا عمل ہے۔ لیکن آج اقوام اپنے ملی مفاد کے بغیر کسی کی مدد کریں تو بے وقوف اور پسماندہ کہی جائیں گی۔
اسی طرح دوستی دشمنی بھی عقیدوں یا ثقافتوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ ملی مفاد کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ عام آدمی "فلان میرا دشمن ہے" اور " فلان ملک ہمارا دشمن ہے" میں کوئی فرق نہیں کرتا اور دونوں جملوں میں دشمنی کو یکساں سمجھتا ہے۔
ملکوں میں جنگ کی صورت میں اصل شے حکمت عملی ہے جو کچھ تو نظر آتی ہے لیکن اس کا زیادہ حصہ نظر نہیں آتا ۔ سب سے بہترین حکمت عملی وہ ہوتی ہے جس میں دشمن جو دکھائے اسے نہ دیکھا جائے اور جو چھپائے اسے دیکھا جائے، جو کروانا چاہے وہ نہ کیا جائے اور جو نہ کروانا چاہے وہ کیا جائے۔ دشمن کے بیانات کی بجائے پالیسی دیکھی جائے، زبان سے زیادہ اقدامات پر فوکس کیا جائے۔ بیانات کے الٹ معانی بھی سوچے جائیں۔ جیسے امریکی صدر نے کسی شخصیت کو بچانے کی بات کی ہے تو اس کی مراد بچانا نہیں بلکہ الٹا قتل کی دھمکی ہے۔ الغرض اصل شے حکمت عملی ہے۔ جذبات تو اس کا ایندھن ہیں۔
ہمیں بہادری، بزدلی، دوستی، دشمنی کے معنی و مفہوم پر نئے سرے سے غور کرنا چاہیئے۔ بہادری اپنے مدلل موقف پر استقامت ہے، نہ کہ نعرے اور دعوے۔ اور بزدلی بے اصولا پن ہے۔ یعنی وہ جو کسی ایک جگہ نہ رکے کبھی یہاں کبھی وہاں۔ وہ بزدل ہے۔
ملکوں کی دوستی بے لوث نہیں ہوتی اور دشمنی کسی کو مٹانے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ دونوں اپنے ملی مفادات کی بنیاد پر ہوتی ہیں۔ لہذا خوش فہمی یا غلط فہمی نہیں ہونی چاہیئے کہ فلان ملک بغیر کسی مفاد کے مدد کرے گا یا فلان ملک یا ساری دنیا ہمیں مٹانا چاہتی ہے۔
ہمیں جاگنا ہوگا سلطنتی دور گزر چکا ہم آج کی معاہداتی ریاست میں جی رہے ہیں۔ اصطلاحات معنی بدل چکی ہیں۔ نہ جاگے تو تکفیری ، بنیاد پرستی ، اسلامو فوبیا، دہشت گردی، غیر ذمہ دار ریاست، ویٹو پاور، پری ایمپٹو اٹیک، نان سٹیٹ ایکٹرز، جنگی جرم، کسی ملک کی بلاوجہ مالی مدد، اسٹیبلشمنٹ ، جیسی اصطلاحات کو نہیں سمجھ سکیں گے اور اسلامی ملک و مسلم ملک، ملی قیادت و تنظیمی قیادت، قائد ملت و سربراہ تحریک، ملی پلیٹ فارم و سیاسی تنظیم، میں فرق سمجھ نہیں آئے گا، اسی طرح آپریشن اور رجیم چینج آپریشن کے فرق کو نہیں سمجھ سکیں گے اور یوں صدیوں پیچھے رہ جائیں گے۔ اپنے جسم کو زخمی کر کے سمجھیں گے کہ ہم نے دشمن سے بدلہ لیا ہے۔
ہمیں آج کے زمانے کو سمجھتے ہوئے عادلانہ نظام کے قیام کی بات کرنی اور مظلوم کی حمایت کرنی ہے۔
سید عون ساجد
4 ہاڑ 1404 ھ ش | 18 جون 2025 ع ش
" چس نئیں آئی" (لطف نہیں آیا) !!!
پچھلے دنوں ایک نوجوان آیا اور کچھ سیاسی و سماجی سوالات کیے۔ جوابات سے مطمئن نہ ہوا تو بولا " چس نئیں آئی" (لطف نہیں آیا) !!!
اس نے آج کے زمانے کی درست عکاسی کی ۔ موجودہ معیشت، تعلیمی نظام، پروپیگیشن سسٹم اور تربیتی طریقہ کار سے ایسی ہی نسل پروان چڑھ رہی ہے جو سوال کا جواب نہیں بلکہ " چس" (لطف) چاہتی ہے۔ ہم تہذیب انسانی کے بچپن میں ہیں۔ شیر خوار بچے کو کھانے کی شے ہاتھ میں دیں، قلم پکڑائیں یا کھلونا دیں تو وہ سبھی کو منہ میں ڈالتا ہے۔ کیونکہ وہ ابھی چس کی دنیا میں ہوتا ہے۔
کچھ اقوام بھی ابھی اپنے تہذیبی بچپنے میں ہیں ان کی ہر شے روٹی کے لیے ہے۔ تعلیم میں ہمارا ڈگری نظام بھی جاب(روٹی) کے لیے ہے۔ ہماری ثقافت بھی روٹی کے گرد گھوم رہی ہے، ہم کتب میلے لگاتے ہیں تو تین کتابیں بکتی ہیں جبکہ کھانے کا سارا سٹال بک جاتا ہے۔ ہمارا سیاسی نظام روٹی کے بغیر وجود نہیں رکھتا، مذہبی پروگرامز روٹی کے بغیر بے رونق ہیں۔ الغرض " چس" کے چکر نے دماغ کو پیٹ کا غلام بنا دیا ہے۔
اگر کچھ سدھار لانا ہے تو چس سے نکل کر علم و تحقیق کی بورنگ دنیا کا رخ کرنا ہوگا۔
موجودہ حالات میں ہمیں اپنے میڈیا، و سوشل میڈیا کی نعروں، ڈینگوں دعووں اور بڑکوں پر مشتمل اکساتی ہوئی مسالے دار و چس دار دنیا سے نکل کر فلسطین و کشمیر و بلوچستان کی حقیقی تاریخ دیکھنی ہوگی اور لڑنے والے فریقین کی (دونوں طرف کی) خبریں پڑھنا ہوں گی، غیر جانبدار ممالک کے مبصرین کا مطالعہ کرنا ہوگا ۔ تب ہم قرآن کی اس ھدایت پر عمل کرسکتے ہیں کہ " اس پر موقف اختیار مت کرو جس کا علم تمہارے پاس نہیں (سورہ اسرا، آیت 36)"
ورنہ ہم چس لیتے رہیں گے اور دنیا ترقی لے اڑے گے۔
سید عون ساجد
12 بیساکھ 1404 ھ ش | 25 اپریل 2025 ع ش